0

ملک سے باہر جانے کے خواہشمند افراد کی تعداد میں حیران کن اضافہ

ملک سے باہر جانے کی خواہش رکھنے والے افراد کی تعداد میں حیران کن اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے روزانہ 40 ہزار افراد پاسپورٹ دفاتر کی طرف رجوع کر رہے ہیں، اور اس سبب سے پاسپورٹس کی تخلیق کاری میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

اسلام آباد: ایک رپورٹ کے مطابق، ملک سے باہر جانے والوں کی تعداد میں انتہائی اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ پاسپورٹ حکام نے بتایا ہے کہ پچھلے چند مہینوں میں پاسپورٹ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں شدت سے اضافہ ہوا ہے۔ اب روزانہ 40 ہزار افراد پاسپورٹ دفاتر میں تلاش کر رہے ہیں، جو مختلف وجوہات کی بنا پر ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔

ملک سے باہر جانے والوں کو پاسپورٹ کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں ڈیٹا کی وجہ سے پاسپورٹ کی تخلیق کاری کے عمل میں بھی رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں۔ شہریوں کو پاسپورٹ کی تخلیق کی فرآنی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے تحت وہ ہفتہ اور اتوار کو بھی پاسپورٹس کی چھپائی کے کام میں مصروف ہیں۔

ماہنامہ اپریل 2023 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ معاشی اور سیاسی معاملات کی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری کی وجوہات سے لاکھوں نوجوان ملک سے باہر کام کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔

روزگار کے حصول کے لئے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2022 تک 7 لاکھ 65 ہزار نوجوان پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے تھے، اور ابتدائی چار ماہ میں بھی مزید ہزاروں پاکستانی بیرون ملک کام کی تلاش میں روانہ ہوئے ہیں۔

بیرون ملک جانے والوں میں ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، اکائوٹنٹس، ایسوسی ایٹ انجینئر، اساتذہ، اور نرسز شامل ہیں۔ 92000 سے زائد افراد نے اعلی تعلیم حاصل کی ہے اور وہ ملک سے باہر کام کی تلاش میں ہیں۔

دسمبر 2022 تک 92000 سے زائد گریجویٹس، 330000 تربیت یافتہ اور 300000 سے زائد غیر تربیت یافتہ نوجوان بیرون ملک کام کی تلاش میں روانہ ہوئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر تعداد واحد پیشے کے ماہرین کی ہے، جیسے کہ انجینئرز، ای

سوسی ایٹ الیکٹریکل انجینئرز، ڈاکٹرز، کمپیوٹر ماہرین، اکائوٹنٹس، زرعی ماہرین، سپروائزرز، منیجرز، اساتذہ، کمپیوٹر آپریٹر، نرسز، ٹیکنیشنز، اور پینٹرز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، درائیورز اور مزدوروں کی بڑی تعداد بھی روزگار کی تلاش میں دوسرے ممالک کو جا چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال کے دوران 736000 نوجوان پاکستانی خلیجی ممالک جا چکے ہیں، جبکہ 40000 پاکستانی یورپی اور ایشیائی ممالک کام کی تلاش میں روانہ ہوئے ہیں۔ ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر اور کویت سب سے زیادہ پاکستانی نوجوان ملازمت کے لئے جا چکے ہیں۔

2020 میں 2 لاکھ 25 ہزار، اور 2021 میں 2 لاکھ 88 ہزار نوجوانوں نے بیرون ملک کام کی تلاش میں ملترتیب کی ترجیح دی تھی، جبکہ رواں سال کی معمولی تردید سے بھرپور تعداد کی رپورٹ کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں