ishaq dar 0

آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہو جائے تو بسم اللہ، ورنہ معاملہ بہتری کی جانب بڑھ رہا ہے، اسحاق ڈار

اسلام آباد: اسحاق ڈار نے مطلع کیا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کی معاشی ٹیم کے درمیان تین روز تفصیلی مذاکرات مکمل ہوئے ہیں ۔ جلد ہی پاکستان کو معاشی میدان میں 24 ویں بڑی ملک کی حیثیت حاصل ہوگی اور پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بیان کیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کر لی ہیں اور مذاکرات کے نتیجے میں 215 ارب روپے کے نئے ٹیکس تسلیم کرلئے گئے ہیں۔

اسٹاف لیول معاہدہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے کی صورت میں قوم کے سامنے لائے جائیں گے، ورنہ صرف گزارا تو ہو رہا ہے۔ ایکسٹرنل فنانسنگ میں کمی کی وجہ سے 213 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔

سپر ٹیکس کے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ یہی جاری رہے گا، سپر ٹیکس کی کم سے کم حد 30 سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔ پیٹرول اور ڈیزل کے بحرانی قیمتوں کو بھی بڑھا کر 60 روپے تک پہنچایا جائے گا

۔

وزیر خزانہ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری افسر صرف ایک ادارے سے پنشن لے سکتے ہیں۔ اب سے زیادہ سرکاری اداروں سے افسران کو پنشن نہیں ملے گی، ایسے افسران کو بھی معلوم ہوچکا ہے جو تین اداروں سے پنشن لے رہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے مزید بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کیلئے ترقیاتی بجٹ یا تنخواہوں میں کٹوتی نہیں ہوگی، بی آر کے محاصل کا تخمینہ 9400 ارب روپے ہوگا جبکہ ہمیں بجٹ میں بہتری ملے گی اور مالیاتی خسارے میں 300 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔ گزشتہ حکومت کی ملک دشمن پالیسیوں کی بنا پر مشکلات کا سبب ہوئے ہیں۔ دفاعی بجٹ میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی اور سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوگا جبکہ معاشی حالات آہستہ آہستہ مستحکم ہو رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ملکی معیشت کو جلد سے جلد بہتر کیا جائے اور پاکستان کو ٹیکس ریونیو میں اضافے کی ضرورت ہے، آئندہ 2 سے 3 روز میں بجٹ منظور کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں